جاري تحميل ... مدونة نور الدين رياضي للعمل السياسي والنقابي والحقوقي

أخبار عاجلة

إعلان في أعلي التدوينة

شداب مرتضى الماركسية والنسوية نظريات متناقضة-مارکسزم اور فیمنزم متضاد نظریات ہیں

 شاداب مرتضی ۔

مارکسزم اور فیمنزم متضاد نظریات ہیں: فریڈرک اینگلز کی رہنمائی میں کارل مارکس کی بیٹیوں ایلیانور مارکس اور لارا لافارگ اور کارل کاؤتسکی کی بیوی لوئس کاؤتسکی نے فیمنزم اور مزدور عورتوں کے حقوق کے درمیان فرق کو واضح کرنے اور اس معاملے پر فیمنزم کے مقابل مزدور عورتوں کے نکتہِ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے آسٹریا کی مزدور عورتوں کی تحریک کے اخبار "ورکنگ ویمن جرنل" کے لیے مضامین لکھے۔
امریکہ میں 1890ء کی دہائی میں ریاست میساچوسٹس میں ایک بل پیش کیا گیا تھا جس میں مزدور عورتوں کے اوقاتِ کار (ورکنگ ڈے) کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جو کہ 12 گھنٹے یومیہ تھے۔ امریکہ کی فیمسنٹ تحریک نے اس بل کی مخالفت کی۔ ان کا نکتہ نظر یہ تھا کہ عورتوں کے اوقاتِ کار میں کمی کا فیصلہ مزدور عورتوں سے پوچھ کے کیا جانا چاہیے تھا، کہ مزدور عورتوں کے اوقاتِ کار میں کمی کا قانون اگر منظور ہو گیا تو فیکٹری مالکان مزدور عورتوں کو نوکری سے نکال کر مردوں کو ملازم رکھ لیں گے؛ کہ مزدورعورتوں کے اوقاتِ کار کم کرنے سے زیادہ اہم مسئلہ انہیں ووٹ کا حق دینے کا تھا۔
لوئس کاؤتسکی نے امریکی فیمنسٹوں کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے مضمون میں لکھا: "سرمایہ دار طبقے کی عورتوں کے حقوق کی تحریک میں اور مزدور طبقے کی عورتوں کے حقوق کی تحریک میں فرق روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہم "عورتوں کی تحریک" کے مخالف نہیں ہیں لیکن ہمارے پاس اسے زرا سی بھی مدد فراہم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔۔۔ میرا ارادہ یہ نہیں اور یہ ایک بیوقوفی ہوگی کہ سرمایہ دار عورتوں کے کام کے بوجھ کی اہمیت کو کم کیا جائے، یا عدالتوں میں اور دیگر جگہوں پر عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی ان عورتوں کو فراموش کر دیا جائے جنہوں نے ایسے بہت سے قوانین کا خاتمہ کیا ہے جو عورت کی حیثیت کمتر بناتے تھے۔ لیکن اس طرح سے جتنے بھی فوائد عورتوں کو حاصل ہوتے ہیں وہ صرف مراعات یافتہ طبقے کی عورت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ مزدور طبقے کی عورت کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ وہ بالائی طبقوں میں صنفوں کے درمیان جاری جنگ کی محض خاموش تماشائی ہیں۔ لیکن جب مراعات یافتہ طبقے کی یہ عورتیں اپنی مراعات یافتہ حیثیت کو ہماری مزدور طبقے کی عورتوں کی تحریک میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے استعمال کرتی ہیں تب یہ کہنا ہمارا فرض بنتا ہے : بس یہیں تک اور اس سے آگے نہیں۔"
ایلیا نور مارکس نے فروری 1892ء کے شمارے میں برسلز میں ہونے والی بین الاقوامی سوشلسٹ کانگریس میں خواتین کے حوالے سے منظور کی گئی قرار داد کے بارے میں لکھا: "یہ قرارداد اور ووٹ کے بارے میں اس میں اختیار کیا گیا موقف اس حقیقت کی وجہ سے اور زیادہ بامعنی ہے کہ کانگریس کے پہلے سیشن میں اس بات کا واضح اعلان کیا گیا کہ سوشلسٹ ورکرز کانگریس کا "خواتین کے حقوق" کے لیے کام کرنے والوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جس طرح جنگ کے سوال پر کانگریس نے سطحی سرمایہ دارانہ امن لیگ، جو محض امن، امن کی رٹ لگاتی ہے جبکہ امن کہیں نہیں ہے، اور معاشی امن کی بات کرنے والی پارٹی کے درمیان فرق پر زور دیا، اسی طرح "عورت کے سوال" پر کانگریس نے اسی قدرصفائی سے ایک جانب خواتین کے حقوق کی بات کرنے والی پارٹی، جو طبقاتی جدوجہد کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ صرف صنفوں کے درمیان لڑائی کو تسلیم کرتی ہے جو کہ استحصالی طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور جو ان حقوق کی خواہشمند ہے جن کا حصول مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والی اس کی بہنوں کے لیے ناانصافی کا موجب ہوگا، اور دوسری جانب، عورتوں کی حقیقی پارٹی، سوشلسٹ پارٹی، جو مزدور عورتوں کی موجودہ ابتر صورتحال کی معاشی وجوہات کی بنیادی سمجھ بوجھ رکھتی ہے اور جو مزدور عورتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے طبقے کے مردوں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اپنے مشترکہ دشمن ، یعنی سرمایہ دار طبقے کے مرد و خواتین کے خلاف، مشترکہ جدوجہد کرے، کے درمیان فرق کو واضح کیا۔۔۔اور اب، عورتوں کو اب کیا کرنا چاہیے؟ ایک بات میں کوئی شبہ نہیں۔ ہم خود کو منظم کریں گے "عورت" کی حیثیت سے نہیں بلکہ "مزدور" کی حیثیت سے، اپنے مزدور مردوں کے زنانہ حریف کے طور پر نہیں بلکہ جدوجہد میں ان کے کامریڈ کی حیثیت سے۔۔"


شداب مرتضى
الماركسية والنسوية نظريات متناقضة: بتوجيه من فريدريك إنجلز، عملت ابنتا كارل ماركس إلينور ماركس ولارا لافارج وزوجة كارل كوتسكي لويز كاوتسكي على توضيح الفرق بين النسوية وحقوق المرأة العاملة وقضية النسوية. تمثيل وجهة النظر كتب مقالات لجريدة الحركة النسائية العاملة النمساوية "مجلة المرأة العاملة".
تم تقديم مشروع قانون في ولاية ماساتشوستس في الولايات المتحدة في عام 1890 يطالب بتخفيض ساعات العمل (أيام العمل) للنساء العاملات، والتي كانت 12 ساعة في اليوم. عارضت حركة الوفاق الأمريكية هذا القانون. وجهة نظرهم كانت الفكرة ان قرار تخفيض ساعات عمل المرأة يجب ان يتخذ بعد سؤال المرأة العاملة اذا تم الموافقة على قانون تخفيض اوقات عمل المرأة يجب على اصحاب المصانع طرد النساء العاملات و توظيف الرجال مثلي الجنس؛ أن القضية الأكثر أهمية من تقليل ساعات عمل النساء العاملات هي إعطائهن الحق في التصويت.
كتبت لويز كاوتسكي في مقالها، معارضة هذا الموقف من النسويات الأمريكيين: "الفرق بين حركة حقوق المرأة من الطبقة الرأسمالية وحركة حقوق المرأة من الطبلة العاملة واضح مثل الفجر. نحن لسنا ضد "الحركة النسائية". "هل ولكن ليس لدينا مبرر لتقديم أي مساعدة لها... لا أقصد ذلك وسيكون من الغباء تقويض أهمية عبء عمل المرأة الرأسمالية، أو حقوق المرأة في المحاكم وفي أماكن أخرى، انسوا النساء المناضلات من أجلهن اللواتي ألغيت الكثير من القوانين التي كانت تقلل من مكانة المرأة. لكن كل الفوائد التي تحصل عليها النساء بهذه الطريقة لا تستفيد إلا من النساء المتميزات. النساء من الطبقة العاملة لا يستفيدن منهم. إنهم مجرد مشاهدين صامتين للحرب الدائرة بين الجنسين في الطبقات العليا. ولكن متى تستغل هؤلاء النساء من الطبقة المتميزة وضعهن المميز لتعطيل حركتنا من أجل نساء الطبقة العاملة؟ عندما نستخدمه، من واجبنا أن نقول: فقط إلى هذا الحد وليس إلى أبعد من ذلك. "
كتبت إيليا نور ماركس عن عدد فبراير 1892 من القرار الذي صدر بشأن المرأة في المؤتمر الاشتراكي الدولي في بروكسل: "هذا القرار والموقف المتخذ فيه بشأن التصويت يعود إلى حقيقة أنه ويتخذ القرار فيه. "أكثر من معنى أن الجلسة الأولى للكونغرس ذكرت بوضوح أن الكونغرس الاشتراكيين لا علاقة له بأولئك الذين يعملون من أجل "حقوق المرأة". مثلما فعل الكونجرس حول مسألة الحرب اتحاد السلام الرأسمالي السطحي، الذي ببساطة السلام، يضع روتين السلام بينما لا يوجد في أي مكان، ويؤكد على الفرق بين الحزب الناطق بالسلام الاقتصادي، وكذلك الكونجرس عن "سؤال المرأة" بنفس القيم الحزب الذي يتحدث عن حقوق المرأة وهو النضال الطبقي لا تعترف بل تعترف فقط بالقتال بين الجنسين الذين ينتمون إلى الطبقة الاستغلالية والتي تريد الحقوق التي تكون ظلم لأخواتها من الطبقة العاملة ومن جهة أخرى المرأة الحزب الحقيقي الحزب الاشتراكي الذي لديه فهم أساسي للاقتصادي أسباب المحنة الحالية للمرأة العاملة والتي تطالب المرأة العاملة بوضع أيدي الرجال من طبقتها لعدوهم المشترك أي الطبقة الرأسمالية توضيح الفرق بين الرجال والنساء النضال معا.. . الآن، ماذا يجب أن تفعل النساء الآن؟ ليس هناك شك في شيء واحد. سننظم أنفسنا ليس "نساء" بل ك"عمالات"، ليس كإناث منافسات لرجال عمالنا بل كرفاقهم في النضال..


 من صفحة

The Communist Party of Pakistan "CPP"


ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

إعلان في أسفل التدوينة

إتصل بنا

نموذج الاتصال

الاسم

بريد إلكتروني *

رسالة *