جاري تحميل ... مدونة نور الدين رياضي للعمل السياسي والنقابي والحقوقي

أخبار عاجلة

إعلان في أعلي التدوينة

ریاست صرف تشدد کا آلا هے ، اسے بدلنا هوگا۔ امداد قاضی *الدولة ليست سوى أداة للعنف، ويجب تغييرها. امداد قاضي

 ریاست صرف تشدد کا آلا هے ، اسے بدلنا هوگا۔

امداد قاضی
ریاست کا کام عام عوام سے بھاری ٹیکس لیکر اس سے پولیس ، فوج کے لشکر بنا کر صرف اپنے استحصالی نظام کو برقرار رکھنے کا عمل اب نہیں چلے گا ۔ عوام کے بنیادی حقوق اب دینے ہونگے ۔
1 ۔ ملک کے تمام بچوں کا معیاری تعلیم بنیادی حق ہے اور دینا ریاست کی زمه داری هے ۔
تمام فارغ التحصیل بچوں کا تعلیمی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر روز گار ان کا بنیادی حق ہے ، فراہم کرنا ریاست کی زمه داری هے ۔
3۔ ملک بھر کے تمام شہریوں کا معیاری اور مساوی طبی سہولتیں بنیادی حق ہے اور فراہم کرنا ریاست کی زمه داری هے ۔
4۔ ہر شادی شدہ جوڑے کا گھر حق ہے اور فراہم کرنا ریاست کی زمه داری هے ۔
یہ حقوق مل جائیں تو ملک بھر کا پورا سیاسی، معاشی اور سماجی کلچر ہی تبدیل ہو جائے ۔ جرائم ، تعصبات، نفسانفسی، نفرتیں، حسد، اور مختلف قسم کی بیماریاں ختم ہو جائیں گی ۔ پولیس، عدالتوں، قید خانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہونے والے ہزاروں ارب کے اخراجات میں بڑی حد تک ضائع ہونے والی رقوم کو اپنے شہریوں کے فلاح و بہبود کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔ سود کے نظام سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے گا۔
یاد رہے کہ آئین میں ان چار بنیادی حقوق کی ذمہ داری ریاست نے اپنے ذمے قبول کی ہوئی ہے، لیکن عملی طور پر یہ ذمہ داری پوری نہیں کی جاتی ۔ یہ صرف آئین سے انحراف نہیں بلکہ اپنے شہریوں اور انسانیت کی توہین ہے ۔ لیکن ریاست سے پوچھے کون؟ یہ بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنا ناممکن نہیں ہے ۔ سوشلسٹ ممالک میں ریاستیں یہ تمام بنیادی حقوق کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ فراہم کرتی رہی ہیں ۔ گزشتہ 64 برسوں سے کیوبا کے خلاف تمام معاشی ناکہ بندیوں ، سازشوں اور پابندیوں کے باوجود کیوبا کی ریاست اپنے تمام شہریوں کو یہ بنیادی حقوق اور سہولتیں، دنیا کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں کامیابی اور ذمہ داری کے ساتھ فراہم کر رہی ہے۔ سامراجی طاقتوں نے مختلف ممالک کی رجعتی، عوام دشمن اور رد انقلاب کی قوتوں سے گٹھ جوڑ کرکے سوشلسٹ ممالک کو بکھیرنے کا تاریخی انسانی جرم کیا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے تقریبن تمام ممالک میں سوشلسٹ نظریہ اور نظام دن بدن عام انسانوں میں مقبول ہو رہا تھا ۔ مقبول ہونے کی اہم وجہ یہی تھی کہ سوشلسٹ ریاستیں تمام شہریوں کو مندرجہ بالا بنیادی حقوق ذمہ داری کے ساتھ عملی طور پر کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ فراہم کر رہی تھیں ۔ جبکہ سرمائدارانہ نظام والی تمام ریاستیں اس وقت بھی تو آج بھی تمام شہریوں کو یہ حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔ دنیا کی سرمایہ داری کی ماڈل ریاست امریکہ و دیگر سرمایہ دار ریاستیں سوشلسٹ ریاستوں کو بکھیرنے کے 35 برس بعد بھی یہ ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ جبکہ امریکہ اور نیٹو کے حکمرانوں کی تمام رکاوٹوں کے باوجود بھی کیوبا کی ریاست کامیابی کے ساتھ اپنے تمام شہریوں کو یہ بنیادی حقوق فراہم کر رہی ہے ۔ وسائل اور ذرائع کے لحاظ سے پاکستان کے پاس کیا کچھ نہیں ہے؟ لیکن ریاست کے تمام ادارے شروع سے لے کر آج تک اپنے ہی عوام کو " فتح " کرنے اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے طبقاتی اور کاروباری مفادات کی خاطر سب کچھ کرنے پر بضد ہیں ۔ ان کے اس دیرینہ فسطائی رویہ کے نتائج 24 کروڑ عوام بہت برے طریقے سے بھگت رہے ہیں۔ مالدار اشرافیہ پر مشتمل طبقہ ، ان کے حاشیہ بردار کاروباری ریاستی ادارے جو کچھ کر رہے ہیں اس کو ملک کا بچہ بچہ اب اچھی طرح سمجھ رہا ہے ۔ موجودہ فرسودہ، بدصورت، بدبودار استحصالی نظام اور ان کے کرتا دھرتا اب اس ملک کے کثیر الرخی اور گوناگوں مسائل حل کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔
ان کے پاس کئی سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا ۔ اس لئے وہ صرف جبر کا آلہ رہ گیا ہے ۔اس لئے اب گروپ بنا کر میڈیا کو استعمال کرنے کی ناکام کوشش کرتے اور آئیں ، بائیں، شائیں بکتے رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور اپنی اپنی بغلیں جھانک رہے ہوتے ہیں ۔ انقلاب، عوامی جدوجہد کے بل بوتے پر سوشلسٹ انقلاب کا نام سنتے ہی پریشان اور برہم ہو کر ایک دم فتوا صادر کرتے ہیں کہ " انقلاب تو خونی ہوتے ہیں "۔ انقلاب واقعی قصے کہانیاں نہیں ہوتے، واقعی خونی ہوتے ہیں ۔ لیکن ان انقلابات کو خونی بنانے کا ذمہ دار کون ہوتا رہا ہے؟ انسانی تاریخ میں تشدد کی ابتداء کبھی بھی مظلوم نے نہیں کی۔ استحصال ، ناانصافی اور حق تلفی تشدد کی بدترین شکل ہیں، جن کی ابتداء تاریخی طور پر ثابت ہے کہ استحصالی عوام دشمن طبقہ کرتا رہا ہے ۔ اس طبقے کو کبھی نہ کبھی ردعمل کے طور پر سامنا تو کرنا ہی پڑے گا ۔ یہ نہ تو کوئی دھمکی ہے، نہ ہی کسی دیوانے کی بھڑک ، نہ پروپيگنڊا ہے اور نہ ہی کوئی خوش فہمی ، یہ تو انسانی تاریخ ہے ۔ تاریخ سے سبق حاصل نہ کرنے والے ہی اسی طرح چیختے چلاتے ہیں ۔
انقلاب کے لئے ریاست کا نظام ہی حالات پیدا کرتا ہے ۔ انقلابی سیاسی قیادت تو صرف عوام کو منظم کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے ۔ اندرونی اور بیرونی حالات کو ہم آہنگی کے ساتھ استعمال کرنا واقعی نظریاتی انقلابی سیاسی قیادت کا کام ہے۔ جس کا شدت سے انتظار بھی ہے تو ضرورت بھی ۔



الدولة ليست سوى أداة للعنف، ويجب تغييرها. امداد قاضي إن عمل الدولة المتمثل في جمع الضرائب الباهظة من عامة الناس وإنشاء جحافل من الشرطة والجيش منهم، فقط للحفاظ على نظامها الاستغلالي، لن ينجح بعد الآن. ويجب أن تعطى الحقوق الأساسية للشعب الآن. 1. التعليم الجيد هو حق أساسي لجميع أطفال البلاد وتقع على عاتق الدولة توفيره. 2. وتقع على عاتق الدولة مسؤولية توفير فرص العمل لجميع الخريجين على أساس مؤهلاتهم التعليمية ومؤهلاتهم كحق أساسي لهم. 3. إن المرافق الطبية القياسية والمتساوية هي حق أساسي لجميع المواطنين في جميع أنحاء البلاد وتقع على عاتق الدولة توفيرها. 4. البيت حق لكل زوجين وعلى الدولة توفيره. وإذا تم منح هذه الحقوق، فإن الثقافة السياسية والاقتصادية والاجتماعية للبلد برمتها ستتغير. ستنتهي الجرائم والأحكام المسبقة والنرجسية والكراهية والغيرة والأمراض المختلفة. ويمكن استخدام آلاف المليارات من الأموال التي تنفق على الشرطة والمحاكم والسجون ووكالات إنفاذ القانون من أجل رفاهية مواطنينا. سيكون من الممكن التخلص من نظام الفائدة. ويجب أن نتذكر أن مسؤولية هذه الحقوق الأساسية الأربعة قد قبلتها الدولة في الدستور، ولكن في الواقع لم يتم الوفاء بهذه المسؤولية. وهذا ليس انتهاكًا للدستور فحسب، بل إهانة لمواطنينا وللإنسانية. لكن من سأل الدولة؟ ليس من المستحيل توفير حقوق الإنسان الأساسية. وفي الدول الاشتراكية، ظلت الدول توفر كل هذه الحقوق الأساسية بنجاح ونعمة. على الرغم من جميع أشكال الحظر الاقتصادي والمؤامرات والحظر ضد كوبا على مدى السنوات الـ 64 الماضية، ظلت الدولة الكوبية توفر هذه الحقوق والتسهيلات الأساسية لجميع مواطنيها، بنجاح ومسؤولية أكبر من أي دولة أخرى في العالم. لقد ارتكبت القوى الإمبريالية الجريمة الإنسانية التاريخية المتمثلة في تشتيت البلدان الاشتراكية من خلال التواطؤ مع القوى الرجعية والمعادية للشعب والثورة المضادة في مختلف البلدان. وكان السبب الرئيسي لذلك هو أن الأيديولوجية والنظام الاشتراكي أصبحا يتمتعان بشعبية كبيرة يومًا بعد يوم بين عامة الناس في جميع دول العالم تقريبًا. كان السبب الرئيسي لشعبيتها هو أن الدول الاشتراكية كانت توفر الحقوق الأساسية المذكورة أعلاه لجميع المواطنين ذوي المسؤولية في الممارسة العملية بنجاح ونعمة. في حين أن جميع الدول ذات النظام الرأسمالي فشلت في توفير هذه الحقوق لجميع المواطنين آنذاك وحتى اليوم. وحتى بعد 35 عاما من تشتيت الدول الاشتراكية، فإن أمريكا والدول الرأسمالية الأخرى، الدولة النموذجية للرأسمالية العالمية، غير قادرة على الوفاء بهذه المسؤولية. وعلى الرغم من كل العقبات التي يواجهها حكام الولايات المتحدة وحلف شمال الأطلسي، فإن دولة كوبا توفر بنجاح هذه الحقوق الأساسية لجميع مواطنيها. ما الذي لا تملكه باكستان من حيث الموارد والوسائل؟ لكن كل مؤسسات الدولة منذ البداية وحتى اليوم مصممة على "قهر" شعبها والقيام بكل شيء من أجل مصالحها الطبقية والتجارية على أساس السلطة. يعاني 24 كرور شخص من عواقب موقفهم الفاشي الذي طال أمده. أصبح أطفال البلاد الآن يدركون جيدًا ما تفعله النخبة الثرية ومؤسسات الدولة التجارية الهامشية. إن النظام الاستغلالي الحالي الذي عفا عليه الزمن والقبيح وذو الرائحة الكريهة وعناصر تمكينه غير قادرين الآن على حل المشاكل المتعددة الأوجه والمتعددة الأوجه لهذا البلد. ليس لديهم إجابة على العديد من الأسئلة. ولهذا السبب ظلت مجرد أداة للقمع. ولهذا السبب يقومون الآن بتكوين مجموعات ويحاولون دون جدوى استخدام وسائل الإعلام ويأتيون ويغادرون ويستمرون في البيع. إنهم ينظرون إلى بعضهم البعض وينظرون إلى إبط بعضهم البعض. على أساس الثورة، نضال الناس، عندما يسمعون اسم الثورة الاشتراكية، ينزعجون ويغضبون ويصدرون على الفور فتوى مفادها أن "الثورات دموية". الثورات ليست قصصًا حقًا، إنها دموية حقًا. لكن من المسؤول عن جعل هذه الثورات دموية؟ لم يسبق أن بدأ العنف من قبل المضطهدين في تاريخ البشرية. إن الاستغلال والظلم وانتهاك الحقوق هو أسوأ أشكال العنف، والذي ثبت تاريخياً أن بدايته تتم من قبل الطبقة المناهضة للشعب. في بعض الأحيان يجب مواجهة هذه الفئة كرد فعل. وهذا ليس تهديدا، ولا هذيان مجنون، ولا دعاية، ولا هو تأبين، إنه تاريخ البشرية. لا يصرخ هكذا إلا من لا يتعلم من التاريخ. نظام الدولة يخلق الظروف للثورة. إن القيادة السياسية الثورية لا تقوم إلا بواجب تنظيم الشعب. إن استخدام الظروف الداخلية والخارجية بشكل متناغم هو مهمة القيادة السياسية الثورية الأيديولوجية الحقيقية. وهو ما ينتظره بفارغ الصبر ويحتاجه.

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

إعلان في أسفل التدوينة

إتصل بنا

نموذج الاتصال

الاسم

بريد إلكتروني *

رسالة *