جاري تحميل ... مدونة نور الدين رياضي للعمل السياسي والنقابي والحقوقي

أخبار عاجلة

إعلان في أعلي التدوينة

لا وجود لأي «قانون دولي» حقيقي في ظل الإمبريالية بقلم: نيكوس موتاس- سامراجیت میں کوئی حقیقی “بین الاقوامی قانون” موجود نہیں تحریر: نیکوس موٹاس

 سامراجیت میں کوئی حقیقی “بین الاقوامی قانون” موجود نہیں

تحریر: نیکوس موٹاس
یہ بات آج بہت دہرائی جا رہی ہے کہ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر ٹرمپ ڈاکٹرائن جیسے رویّوں نے، “بین الاقوامی قانون کو تباہ کر دیا ہے”۔ لیکن یہ دعویٰ ایک بنیادی غلط فہمی پر کھڑا ہے: یعنی یہ مان لینا کہ کبھی کوئی ایسا بین الاقوامی قانون موجود تھا جو سامراجی طاقتوں سے بالاتر اور غیر جانب دار تھا اور سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا تھا۔
مارکسزم-لیننزم کے نقطۂ نظر سے یہ محض ایک چھوٹی غلطی نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامراجیت کبھی بھی بین الاقوامی قانون کی پابند نہیں رہی۔ جس چیز کو “بین الاقوامی قانون” کہا جاتا ہے، وہ ہمیشہ سامراجی نظام کی پیداوار رہی ہے۔ اسے صرف اسی وقت تک مانا گیا جب تک وہ بڑی اجارہ دار طاقتوں کے مفادات کے مطابق رہا، اور جب اس نے ان مفادات کی خدمت بند کی تو اسے فوراً نظر انداز کر دیا گیا۔
آج ہم جو کھلی عہد شکنی، عالمی اداروں کی توہین اور بے جھجک جبر دیکھ رہے ہیں، وہ کسی نئی بربریت کی ابتدا نہیں۔ دراصل یہ اس پردے کے ہٹنے کی علامت ہے جس کے پیچھے پہلے یہی بربریت “قانون” اور “اصولوں” کے نام پر انجام دی جاتی تھی۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ہمیں قانون کے بارے میں مارکسی نظریے سے آغاز کرنا ہوگا۔ لینن، مارکس اور اینگلز کی پیروی کرتے ہوئے، اس خیال کو مکمل طور پر رد کرتا ہے کہ قانون کوئی غیر جانب دار منصف ہوتا ہے۔ اپنی مشہور کتاب "ریاست اور انقلاب" میں وہ صاف الفاظ میں لکھتا ہے:
“ریاست طبقاتی تضادات کے ناقابلِ حل ہونے کی پیداوار ہے۔ ریاست وہاں اور اسی وقت وجود میں آتی ہے جب طبقاتی تضادات کو حل کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اور ریاست کا وجود خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تضادات ناقابلِ مصالحت ہیں۔”
لینن مزید وضاحت کرتا ہے:
“ریاست ایک طبقے کی دوسرے طبقے پر حکمرانی کا آلہ ہے۔ یہ ایسا ‘نظم’ قائم کرتی ہے جو اس استحصال کو قانونی بنا کر ہمیشہ کے لیے قائم رکھتا ہے۔”
اس کا مطلب صاف ہے: قانون کوئی آفاقی اخلاقی اصول نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھیار ہے، جو ریاستی طاقت اور طبقاتی غلبے سے جڑا ہوتا ہے۔ جو کردار قانون ایک ملک کے اندر بورژوا ریاست کے لیے ادا کرتا ہے، وہی کردار نام نہاد بین الاقوامی قانون پوری دنیا میں سامراجی طاقتوں کے لیے ادا کرتا ہے۔ یعنی طاقت کے غلبے کو “قانونی” بنانا، استحصال کو “نظم” کا نام دینا، اور جبر کو جائز دکھانا۔
دنیا میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود نہیں جو ریاستوں اور طبقوں سے بالاتر ہو اور غیرجانبدار ہو۔ اصل حقیقت سرمایہ داری کا عالمی نظام ہے، اور اس کا اعلیٰ ترین مرحلہ سامراجیت ہے۔
لینن کی کتاب "سامراجیت: سرمایہ داری کا اعلیٰ ترین مرحلہ" ہمیں اس نظام کو سمجھنے کا بنیادی فریم ورک دیتی ہے۔ لینن واضح کرتا ہے کہ سامراجیت محض جارحانہ خارجہ پالیسی نہیں بلکہ سرمایہ داری کا ایک مخصوص مرحلہ ہے، جس کی بنیاد اجارہ داریاں، سرمائے کی برآمد، اور بڑی طاقتوں کے درمیان دنیا کی تقسیم ہے۔
ایسے نظام میں کوئی معاہدہ یا قانونی فریم ورک مستقل نہیں ہو سکتا۔ لینن کے مطابق سامراجی طاقتوں کے درمیان معاہدے دراصل جنگوں کے درمیان عارضی وقفے ہوتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:
“پرامن اتحاد جنگوں کی تیاری کرتے ہیں، اور خود جنگوں ہی سے جنم لیتے ہیں۔ یوں ایک ہی سامراجی نظام کے اندر پرامن اور غیر پرامن جدوجہد باری باری چلتی رہتی ہے۔”
یہ بات واضح کر دیتی ہے کہ سامراجیت کے دور میں کسی مستقل اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی قانونی نظام کا تصور محض ایک فریب ہے۔ اگر معاہدے وقتی ہوتے ہیں تو قانون بھی طاقت کا ایک عارضی اظہار ہی ہوتا ہے۔
بین الاقوامی قانون سامراجیت کو قابو میں نہیں رکھتا، بلکہ صرف ایک مخصوص دور میں سامراجی طاقت کے توازن کو ریکارڈ کرتا ہے۔
تاریخ اس بات کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔ جب بھی سامراجی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا، قانونی ڈھانچوں کو بے رحمی سے توڑ دیا گیا۔ پہلی عالمی جنگ نے نوآبادیاتی تقسیم کے لیے تمام پرانے معاہدے مٹا دیے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم گرائے گئے، بغیر کسی قانونی یا اخلاقی جواز کے۔ ویتنام میں انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوئی۔ 1999 میں یوگوسلاویہ پر نیٹو کی بمباری اقوامِ متحدہ کی اجازت کے بغیر کی گئی۔ 2003 میں عراق پر حملہ کسی قانونی بنیاد کے بغیر ہوا۔ 2011 میں لیبیا میں “تحفظ” کے نام پر حکومت کا تختہ الٹا گیا اور ملک کو تباہی میں دھکیل دیا گیا۔ آج سامراجی معاشی پابندیاں پوری قوموں کو اجتماعی سزا دینے کا ذریعہ بن چکی ہیں، جو خود ان ہی قوانین کی نفی ہیں جن کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
یہ سب کوئی حادثات یا استثنا نہیں، بلکہ سامراجیت کا معمول کا طریقۂ کار ہے۔
کافی عرصے تک سامراجیت نے قانون، انسانی حقوق اور عالمی اداروں کے پردے میں کام کرنا بہتر سمجھا۔ یہ سب چیزیں طاقتوں کے درمیان مقابلہ سنبھالنے، کمزور ریاستوں کو قابو میں رکھنے، اور اصلاح پسند قوتوں کو نظام میں جذب کرنے کے لیے مفید تھیں۔ اس دور میں قانون جبر کو روکنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اسے جائز دکھانے کا ہتھیار تھا۔
اسٹالن نے درست کہا تھا کہ سرمایہ داری میں “اقوام کی مساوات” محض ایک فریب ہے، کیونکہ حقیقت میں معاشی، سیاسی اور عسکری طاقت میں گہری عدم مساوات موجود ہوتی ہے، اور یہی عدم مساوات ہر چیز کا فیصلہ کرتی ہے۔
یہ بدگمانی نہیں بلکہ دنیا کی مادیت پسندانہ تفہیم ہے۔
آج سامراجی رویّے میں نیا پن اس کے مواد میں، اس کے جوہر میں نہیں بلکہ صرف اس کی شکل میں ہے۔ جیسے جیسے معاشی بحران گہرے ہوئے، بڑی طاقتوں کی آپسی کشمکش بڑھی، اور اندرونی سماجی تضادات تیز ہوئے، ویسے ویسے قانونی اور اخلاقی زبان کی اہمیت کم ہوتی گئی۔ اب جبر کو چھپانے کے بجائے کھلے عام استعمال کیا جا رہا ہے۔
لینن نے خبردار کیا تھا کہ ہمیں شکل کی تبدیلی کو اصل تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے مطابق حکومتوں کے کردار کا فیصلہ ان کے دعووں سے نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات سے کرنا چاہیے۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو آج کی سامراجیت ویسی ہی ہے جیسی وہ ہمیشہ رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب نظریاتی نقاب زیادہ تیزی سے اتر رہا ہے۔
یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا رہنما کی اخلاقی خرابی کا نہیں۔ سامراجیت ایک عالمی نظام ہے۔ کثیرالجہتی بھی سامراجی غلبے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے منظم طریقے سے چلاتی ہے۔
جیسا کہ لینن نے کہا:
“تمام ممالک کی بورژوازی پرولتاریہ کے خلاف متحد ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود مختلف ممالک کی بورژوازی کے درمیان غلبے اور منڈیوں کے لیے جدوجہد جاری رہتی ہے۔”
غلبہ ایک ملک کرے یا کئی مل کر، محکوم عوام کے لیے نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے: استحصال، جبر اور تابع داری۔
بین الاقوامی قانون سب سے زیادہ کمزوروں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ آزادی کی تحریکوں کو مجرم بنایا جاتا ہے۔ خود مختار معاشی فیصلوں کو سزا دی جاتی ہے۔ پوری آبادیوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ قانون طاقتوروں کے لیے نرم اور کمزوروں کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔
یہ بین الاقوامی قانون کی ناکامی نہیں بلکہ سامراجیت کے تحت یہی اس کی اصل حقیقت ہے۔
مارکسزم-لیننزم یہ نہیں کہتا کہ ہمیں “بین الاقوامی قانون کے احترام” کی طرف واپس جانا چاہیے۔ یہ خیال خود اس مفروضے پر قائم ہے کہ سامراجیت کو اخلاقی اصولوں سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے، جسے لینن نے صاف رد کیا۔ اس نے اپنی تحریر "سوشلزم اور جنگ" میں کہا:
“جب تک سرمایہ داری موجود ہے، جنگیں ناگزیر ہیں۔”
جہاں جنگ ناگزیر ہو، وہاں قانون کی حکمران نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کمیونسٹوں کا کام سامراجی قانون کی مرمت کرنا نہیں بلکہ ان مادی حالات کا خاتمہ کرنا ہے جو اسے جنم دیتے ہیں یعنی اجارہ دار سرمایہ داری، استحصال، اور سامراجی مقابلے بازئ۔
سامراجیت کے ننگے چہرے کا سامنے آ جانا انسانیت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس کی حقیقت کو بہتر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ قانونی خوش فہمیوں کا ٹوٹنا ہمیں اصل مسئلے سے آنکھ ملانے پر مجبور کرتا ہے۔
سامراجیت کے تحت کوئی حقیقی بین الاقوامی قانون نہیں۔ اصل میں صرف طاقت ہوتی ہے، جسے وقتی طور پر قانون کا نام دے دیا جاتا ہے۔
صرف سامراجیت کا خاتمہ ہی اقوام کے درمیان حقیقی برابری کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اس وقت تک “بین الاقوامی قانون” طاقتوروں کی تحریر ہی رہے گا، جو جب بھی ان کے کام نہ آئے گی، مٹا دی جائے گی۔ (ختم شد)
(نیکوس موٹاس، جریدے "کمیونزم کا دفاع" کے مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ یہ آرٹیکل 11 جنوری 2026 کو اس جریدے میں شائع ہوا)


لا وجود لأي «قانون دولي» حقيقي في ظل الإمبريالية
بقلم: نيكوس موتاس

يُكرَّر كثيرًا اليوم أن السنوات الأخيرة، ولا سيما السلوكيات من نمط «عقيدة ترامب»، قد «دمّرت القانون الدولي». غير أن هذا الادعاء يقوم على سوء فهم أساسي: وهو الافتراض بأن قانونًا دوليًا كان موجودًا يومًا ما، متعاليًا على القوى الإمبريالية، محايدًا، ويُطبَّق على الجميع على قدم المساواة.

من منظور الماركسية–اللينينية، لا يُعدّ هذا مجرد خطأ بسيط، بل هو خداعٌ نظريّ عميق. فالحقيقة أن الإمبريالية لم تلتزم يومًا بالقانون الدولي. وما يُسمّى «القانون الدولي» كان دائمًا نتاج النظام الإمبريالي نفسه. لم يُعترف به إلا بقدر ما خدم مصالح القوى الاحتكارية الكبرى، وحين كفّ عن خدمتها جرى تجاهله فورًا.

إن ما نشهده اليوم من نقضٍ سافرٍ للعهود، وازدراءٍ للمؤسسات الدولية، وقمعٍ فظّ بلا مواربة، لا يمثّل بداية بربرية جديدة، بل هو في الواقع علامة على انكشاف الستار الذي كانت تُرتكب خلفه هذه البربرية ذاتها سابقًا باسم «القانون» و«المبادئ».

ولفهم هذه المسألة، ينبغي الانطلاق من النظرية الماركسية حول القانون. فاتباعًا لماركس وإنجلز، يرفض لينين رفضًا قاطعًا فكرة أن القانون حَكَمٌ محايد. ففي كتابه الشهير «الدولة والثورة» يكتب بوضوح:

«الدولة نتاجُ استحالةِ حلّ التناقضات الطبقية. تنشأ الدولة حيثما وحينما لا يمكن التوفيق بين التناقضات الطبقية. ووجود الدولة ذاته دليل على أن هذه التناقضات غير قابلة للمصالحة».

ويضيف لينين موضحًا:

«الدولة أداةُ سيطرةِ طبقةٍ على أخرى. وهي تُقيم “نظامًا” يُقنِّن هذا الاستغلال ويُخلِّده».

والمعنى واضح: القانون ليس مبدأً أخلاقيًا كونيًا، بل أداة سياسية مرتبطة بسلطة الدولة وبالهيمنة الطبقية. والدور الذي يؤديه القانون داخل الدولة البرجوازية هو نفسه الدور الذي يؤديه ما يُسمّى بالقانون الدولي على مستوى العالم لصالح القوى الإمبريالية: أي إضفاء «الشرعية» على غلبة القوة، وتسميـة الاستغلال «نظامًا»، وتبرير القمع.

لا توجد في العالم سلطة تعلو على الدول والطبقات وتكون محايدة. الحقيقة الأساسية هي النظام الرأسمالي العالمي، ومرحلته العليا هي الإمبريالية.

يقدّم لنا كتاب لينين «الإمبريالية: أعلى مراحل الرأسمالية» الإطار الأساسي لفهم هذا النظام. يوضح لينين أن الإمبريالية ليست مجرد سياسة خارجية عدوانية، بل مرحلة محددة من تطور الرأسمالية، تقوم على الاحتكارات، وتصدير رأس المال، وتقاسم العالم بين القوى الكبرى.

في ظل هذا النظام، لا يمكن لأي اتفاق أو إطار قانوني أن يكون دائمًا. فبحسب لينين، فإن الاتفاقات بين القوى الإمبريالية ليست سوى فترات هدنة مؤقتة بين الحروب. إذ يقول:

«التحالفات السلمية تُعِدّ للحروب، وتنشأ هي ذاتها من الحروب. وهكذا، داخل النظام الإمبريالي الواحد، تتعاقب أشكال النضال السلمي وغير السلمي».

وهذا يبيّن بوضوح أن تصور نظام قانوني دولي ثابت وقائم على المبادئ في عصر الإمبريالية ليس سوى وهم. فإذا كانت الاتفاقات مؤقتة، فإن القانون نفسه لا يكون إلا تعبيرًا مؤقتًا عن موازين القوة.

فالقانون الدولي لا يقيّد الإمبريالية، بل يكتفي بتسجيل توازن معيّن للقوة الإمبريالية في مرحلة محددة.

ويؤكد التاريخ ذلك تمامًا. فكلما تعرّضت المصالح الإمبريالية للخطر، جرى تحطيم الأطر القانونية بلا رحمة. فقد ألغت الحرب العالمية الأولى جميع الاتفاقات السابقة الخاصة بتقاسم المستعمرات. وأُلقيت القنابل الذرية على هيروشيما وناغازاكي دون أي مبرر قانوني أو أخلاقي. وشهدت فيتنام انتهاكات صارخة لما يُسمّى بالقوانين الإنسانية. وفي عام 1999 قصف حلف الناتو يوغوسلافيا دون تفويض من الأمم المتحدة. وفي 2003 شُنّ الهجوم على العراق بلا أي أساس قانوني. وفي 2011 أُطيح بالحكومة الليبية باسم «الحماية» ودُفع البلد إلى الدمار. واليوم أصبحت العقوبات الاقتصادية الإمبريالية أداةً لمعاقبة شعوبٍ بأكملها جماعيًا، وهو ما يناقض القوانين ذاتها التي يُدَّعى الدفاع عنها.

كل هذا ليس حوادث عرضية ولا استثناءات، بل هو الأسلوب الاعتيادي للإمبريالية.

ولفترة طويلة، فضّلت الإمبريالية أن تعمل من خلف ستار القانون وحقوق الإنسان والمؤسسات الدولية. فقد كانت هذه الأدوات مفيدة لإدارة التنافس بين القوى الكبرى، وضبط الدول الأضعف، واحتواء القوى الإصلاحية داخل النظام. في تلك المرحلة، لم يكن القانون وسيلةً لوقف القمع، بل أداةً لتبريره.

وقد قال ستالين بحق إن «مساواة الأمم» في ظل الرأسمالية ليست سوى وهم، لأن الواقع يقوم على تفاوت عميق في القوة الاقتصادية والسياسية والعسكرية، وهذا التفاوت هو الذي يحسم كل شيء.

هذا ليس تشاؤمًا، بل فهمًا ماديًا للعالم.

إن الجديد في السلوك الإمبريالي اليوم ليس في مضمونه أو جوهره، بل في شكله فقط. فمع تعمّق الأزمات الاقتصادية، واشتداد التنافس بين القوى الكبرى، وتفاقم التناقضات الاجتماعية الداخلية، تراجعت أهمية اللغة القانونية والأخلاقية. لم يعد القمع يُخفى، بل يُمارَس علنًا.

وقد حذّر لينين من الخلط بين تغيّر الشكل والتغيّر الحقيقي. فالحكم على الحكومات، بحسبه، لا يكون من خلال ادعاءاتها، بل من خلال ممارساتها الفعلية.

وعمليًا، تبقى إمبريالية اليوم كما كانت دائمًا. الفرق الوحيد هو أن القناع الأيديولوجي يسقط بوتيرة أسرع.

هذه ليست مسألة خللٍ أخلاقي لدى دولة أو زعيم بعينه. فالإمبريالية نظام عالمي. وحتى «التعددية» لا تنهي الهيمنة الإمبريالية، بل تنظّمها وتديرها.

وكما قال لينين:

«تتحدّ برجوازية جميع البلدان ضد البروليتاريا، ومع ذلك يستمر الصراع بين برجوازيات البلدان المختلفة من أجل الهيمنة والأسواق».

سواء مارست الهيمنة دولة واحدة أو عدة دول مجتمعة، فإن النتيجة بالنسبة للشعوب الخاضعة واحدة: الاستغلال والقمع والتبعية.

يُستخدم القانون الدولي في المقام الأول ضد الأضعف. تُجرَّم حركات التحرر. وتُعاقَب القرارات الاقتصادية السيادية. وتُفرض العقوبات على شعوب بأكملها. فيغدو القانون ليّنًا مع الأقوياء وقاسيًا مع الضعفاء.

وهذا ليس فشلًا للقانون الدولي، بل حقيقته الفعلية في ظل الإمبريالية.

لا تقول الماركسية–اللينينية إن علينا «العودة إلى احترام القانون الدولي». فهذا التصور نفسه يقوم على وهم إمكانية ضبط الإمبريالية بالمبادئ الأخلاقية، وهو ما رفضه لينين صراحة. ففي كتابه «الاشتراكية والحرب» قال:

«ما دامت الرأسمالية قائمة، فالحروب حتمية»

وحيث تكون الحرب حتمية، لا يمكن للقانون أن يكون الحاكم. لذلك فمهمة الشيوعيين ليست ترميم القانون الإمبريالي، بل القضاء على الشروط المادية التي تُنتجه: أي الرأسمالية الاحتكارية، والاستغلال، والتنافس الإمبريالي.

إن انكشاف الوجه العاري للإمبريالية لا يضرّ بالإنسانية، بل يتيح فرصة أفضل لفهم حقيقتها. وانهيار الأوهام القانونية يجبرنا على مواجهة جوهر المشكلة.

لا وجود لقانون دولي حقيقي في ظل الإمبريالية. الموجود في الواقع هو القوة فقط، التي يُطلق عليها مؤقتًا اسم «القانون».

وحده القضاء على الإمبريالية يمكن أن يفتح الطريق أمام مساواة حقيقية بين الأمم. وحتى ذلك الحين، سيظل «القانون الدولي» نصًّا يكتبه الأقوياء، ويُمحى كلما لم يعد يخدم مصالحهم. (انتهى)

(نيكوس موتاس هو رئيس تحرير مجلة «الدفاع عن الشيوعية». نُشر هذا المقال في 11 كانون الثاني/يناير 2026 في المجلة).

عن موقع الحزب الشيوعي الباكستاني

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

إعلان في أسفل التدوينة

إتصل بنا

نموذج الاتصال

الاسم

بريد إلكتروني *

رسالة *