جاري تحميل ... مدونة نور الدين رياضي للعمل السياسي والنقابي والحقوقي

أخبار عاجلة

إعلان في أعلي التدوينة

الشهيد هيمون كالاني*شھید ھیموں کالانی

 21 جنوري 2026 سکھر 

شھید ھیموں کالانی 23 مارچ 1923

21جنوری 1943

ھیمُوں کالانی اور دیگر اُن کے ساتھیوں نے ہندوستان کے بٹوارے سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی برطانوی سرکار کے خلاف خفیہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے شہر سکھر میں 5 کاروایاں کر چکے تھے جبکہ 6ویں سرگرمی کرتے ہوئے ھیموں کالانی گرفتار کیاگیا اُس پر بہت تشدد کیا گیا آخر کار اسے پھانسی کی سزا دینے کا آڈر دیا گیا سزا دینے سے پہلے ھیموں کے خاندان کے لوگوں نے ھیموں کالانی کی کم عمری اور موہن داس کرمچند گاندھی کے توسط سے انگریز سرکار کو رحم کی اپیل تو کی لیکن ھیموں کالانی نے اُس اپیل نامے پر دستخط کرنے سے انکار کردیااور انگریز سرکار نے سزا میں کمی کرنے کا شرط رکھ دیا کہ اگر ھیموں کالانی اپنی خفیہ تنظیم اور دیگر ساتھیںوں کے نام بتا دے لیکن ھیموں نے صاف انکار کرتے ہوئے پھانسی کی سزا قبول کی اور 21 جنوری 1943 کو ڈسٹرکٹ جیل سکھر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

 اسی ڈسٹرکٹ جیل کے سامنے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان ڈسٹرکٹ سکھر کی جانب سے پروگرام کیا گیا اور شھید ھیموں کالانی اور اس کی جدوجھد کو سراہتے ہوئے خاص طور پر خیبر پختونخواہ صوبے کے علائقے تیری نواب سے آئے ہوئے اور پشتو ذبان کے مشھور شاعر خوشحال خان خٹک کے نواسے اسفندر یار خن خٹک نے اردو اور سندھی انقلابی گیتوں پر رقص کرتے ہوئے ھیموں کالانی کو خوب سراہا ۔

ھیموں کی کم عمری اور ثابت قدمی کی بدولت اسے ہند میں شھید قرار دیتے ہوئے ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ھیموں کالانی  کی ماں اور بھگت سنگھ کی ماں کو ایوارڈز سے نوازا اور ھیموں کی تصویر کے ڈاک ٹکٹ جاری کیۓ ۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کے سکھر شھر میں ھیموں کالانی کے نام سے پارک موجود ہے بٹوارے کے بعد اس کا نام بدل کر قاسم لوکس پارک رکھ دیا گیا اب اسے واپس اپنے اصل نام ھیموں کالانی پارک کیا جائے ۔


21 يناير 2026 – سُكّر
الشهيد هيمون كالاني
23 مارس 1923 – 21 يناير 1943

شارك هيمون كالاني، إلى جانب عدد من رفاقه، في أنشطة سرّية ضد شركة الهند الشرقية والحكومة البريطانية قبل تقسيم الهند. وقد نفّذوا في مدينة سُكّر خمس عمليات، وأثناء تنفيذ العملية السادسة أُلقي القبض على هيمون كالاني. تعرّض لتعذيب شديد، وفي النهاية صدر أمر بإعدامه.

وقبل تنفيذ الحكم، تقدّم أفراد عائلة هيمون كالاني، وبوساطة موهانداس كرمتشاند غاندي، بطلب عفو إلى الحكومة البريطانية بسبب صغر سنه، إلا أن هيمون كالاني رفض التوقيع على عريضة العفو. كما اشترطت الحكومة البريطانية تخفيف الحكم إذا كشف هيمون كالاني عن أسماء تنظيمه السرّي ورفاقه، لكنه رفض ذلك رفضًا قاطعًا، وقَبِل حكم الإعدام. وفي 21 يناير 1943، أُعدم شنقًا على المشنقة في سجن مقاطعة سُكّر.

وأمام هذا السجن نفسه، نظّم الحزب الشيوعي الباكستاني – فرع مقاطعة سُكّر – فعالية لإحياء ذكرى الشهيد هيمون كالاني والإشادة بنضاله. وشارك في الفعالية، على وجه الخصوص، الشاعر المعروف باللغة البشتونية، أسفنديار خان خَتَك، حفيد الشاعر الكبير خوشحال خان خَتَك، القادم من منطقة تيري نواب في إقليم خيبر بختونخوا، حيث قدّم رقصات على أغانٍ ثورية بالأردية والسندية تكريمًا لهيمون كالاني.

وبسبب صغر سن هيمون وثباته على مواقفه، أُعلن شهيدًا في الهند. وقد قامت رئيسة الوزراء الهندية إنديرا غاندي بتكريم والدة هيمون كالاني ووالدة بهغت سينغ بمنحهم جوائز، كما أُصدرت طوابع بريدية تحمل صورة هيمون.

ونطالب بأن يُعاد الاسم الأصلي للحديقة الموجودة في مدينة سُكّر باسم «حديقة هيمون كالاني»، إذ تم تغيير اسمها بعد التقسيم إلى «حديقة قاسم لوكس»، ونطالب اليوم بإعادتها إلى اسمها الأصلي: حديقة هيمون كالاني.










ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

إعلان في أسفل التدوينة

إتصل بنا

نموذج الاتصال

الاسم

بريد إلكتروني *

رسالة *