جاري تحميل ... مدونة نور الدين رياضي للعمل السياسي والنقابي والحقوقي

أخبار عاجلة

إعلان في أعلي التدوينة

زمام الإمبريالية العالمية بات اليوم تحت أقدام شخص مهووس مثل ترامب،مشتاق علي شانThe Communist Party of Pakistan "CPP"

 عالمی سامراجیت کی نکیل آج کل ٹرمپ جیسے جنونی کے زیرپا ہے جس نے وینزویلا پر جارحیت کرتے ہوئے وینزویلائی عوام کے امنگوں کی مظہر نکولس مادورو کی بائیں بازو کی منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔

زیر نظر تصویر میں امریکی سپاہی صدر مادورو کو گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں ۔ سوویت یونین کے انہدام کے پچیس سال بعد کی سامراجی تخلیق کردہ تکلیف دہ تصاویر میں یہ ایک نیا اضافہ ہے ۔
ایسی ہی تصویر امریکی سامراج ساٹھ کی دہائی میں اسی خطے میں سوشلسٹ کیوبا میں کامریڈ فیڈل کاسترو کی بھی تخلیق کرنے نکلا تھا لیکن سوویت یونین کی موجودگی کے باعث اسے منہ کی کھانی پڑی تھی ۔
سامراجیت نے جو گھناؤنا کھیل وینزویلا میں کھیلا اور کھیل رہی ہے کیا سوویت یونین کی موجودگی میں یہ ممکن تھا ؟
تاریخ اس کا جواب نفی میں دیتی ہے۔
خروشچیف سے لے کر دمِ واپسیں تک کا ترمیم پسند سوویت یونین بہرحال کہیں نہ کہیں سامراجیت کی دیوہیکل جنگی مشین کے خلاف مزاحمت کے مورچوں پر موجود رہا ۔
آج کا نام نہاد "سوشلسٹ چین" کہیں نظر نہیں آتا ماسوائے اپنی سامراجی ریاست کے توسیع پسندانہ منصبوں کو دوام بخشنے اور اسی سلسلے میں دیگر سامراجی طاقتوں کے ساتھ کشمکش کے چین کا کوئی کردار نہیں۔
ہند کے ممتاز انقلابی شاعر علی سردار جعفری نے سوویت یونین کے انہدام کے لمحوں میں مستقبل میں جھانکتے ہوئے کیا خوب کہا تھا :
رزم گاہِ خیر وشر میں یاد آئے گی تری
ہم ہیں اب اور لشکرِ ابلیسِ عالم الوداع
لیکن سرمایہ داری کا یہ ابلیسِ عالم ہمیشہ یہ کھیل جاری نہیں رکھ سکے گا ۔ اب تک جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے مارکسی جدلیات کی زبان میں یہ کیفیت نہیں کمیت ہے ،محض نقش برآب اور انہی نقوش میں کہیں کیفیت کی وہ تصویر مستور ہے جو بتدریج ابھرے گی۔ عالمی سامراجیت کی دائمی شکست نوشتہء دیوار ہے ،خود امریکی سامراجیت کی جنگی مشین کے ملبے پر سائمن بولیوار سے لے کر کامریڈ چے گویرا کا فاتحانہ رقص ابھی باقی ہے ۔
مشتاق علی شان

إن زمام الإمبريالية العالمية بات اليوم تحت أقدام شخص مهووس مثل ترامب، الذي شنّ عدوانًا على فنزويلا، فأطاح بالحكومة اليسارية المنتخبة ديمقراطيًا برئاسة نيكولاس مادورو، تلك الحكومة التي كانت تعبّر عن تطلعات الشعب الفنزويلي.

وفي الصورة المشار إليها، يظهر جنود أمريكيون وهم يعتقلون الرئيس مادورو ويقتادونه. إنها إضافة جديدة إلى سلسلة الصور المؤلمة التي صنعتها الإمبريالية بعد خمسةٍ وعشرين عامًا على انهيار الاتحاد السوفييتي.

لقد حاولت الإمبريالية الأمريكية في ستينيات القرن الماضي، وفي المنطقة نفسها، أن تصنع صورة مشابهة في كوبا الاشتراكية بحق الرفيق فيديل كاسترو، لكنها مُنيت بالفشل الذريع بسبب وجود الاتحاد السوفييتي آنذاك.

إن اللعبة القذرة التي لعبتها الإمبريالية في فنزويلا وما تزال تلعبها: هل كان يمكن أن تحدث في ظل وجود الاتحاد السوفييتي؟
إن التاريخ يجيب عن هذا السؤال بالنفي.

فالاتحاد السوفييتي، منذ خروتشوف وحتى لحظاته الأخيرة، ورغم طابعه الإصلاحي، ظلّ على نحوٍ أو بآخر حاضرًا في مواقع المقاومة في مواجهة آلة الحرب الإمبريالية العملاقة.

أما ما يُسمّى اليوم بـ«الصين الاشتراكية»، فلا يُرى لها دور يُذكر، سوى في تكريس مشاريعها التوسعية كدولة إمبريالية، وفي إطار صراعاتها مع قوى إمبريالية أخرى؛ إذ لا يظهر للصين أي دور تحرّري في هذا السياق.

وقد عبّر الشاعر الثوري الهندي الكبير علي سردار جعفري، وهو يستشرف المستقبل في لحظات انهيار الاتحاد السوفييتي، تعبيرًا بليغًا حين قال:

في ساحة الصراع بين الخير والشر سنفتقدك،
نحن هنا الآن، وإلى جيش إبليس العالمي الوداع.

لكن هذا «إبليس» الرأسمالية العالمية لن يستطيع مواصلة هذه اللعبة إلى الأبد. فما حدث ويحدث حتى الآن، بلغة الجدل الماركسي، ليس «كيفًا» بل «كمًّا»، مجرد سراب ونقوش على الماء. وضمن هذه النقوش تختبئ صورة «الكيف» التي ستبرز تدريجيًا.

إن الهزيمة الحتمية للإمبريالية العالمية مكتوبة على جدار التاريخ، ولا يزال الرقص الظافر من سيمون بوليفار إلى الرفيق تشي غيفارا فوق أنقاض آلة الحرب الإمبريالية الأمريكية في انتظاره.

مشتاق علي شان




ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

إعلان في أسفل التدوينة

إتصل بنا

نموذج الاتصال

الاسم

بريد إلكتروني *

رسالة *